فجر کی نماز کا طریقہ

فجر پانچ وقت کی نمازوں میں پہلی نماز ہے اور صبحِ صادق سے سورج نکلنے تک پڑھی جاتی ہے۔ پاکستان کے نماز کے نقشوں میں «سحری کا اختتام» یا «فجر» کا وقت نماز کے آغاز کا وقت ہے اور «طلوعِ آفتاب» اس کے ختم ہونے کا؛ فجر سورج نکلنے سے پہلے پڑھ لینی چاہیے، اس کے بعد پڑھی جائے تو قضا ہو گی۔ حنفی فقہ میں مستحب یہ ہے کہ فجر اس وقت پڑھی جائے جب روشنی خوب پھیل جائے (اسفار)، لیکن اتنی تاخیر نہ ہو کہ سورج نکلنے کا خطرہ ہو۔ فجر کی کل چار رکعتیں ہیں: پہلے دو رکعت سنت اور پھر دو رکعت فرض۔ فجر کی سنتیں نبی کریم ﷺ نے کبھی نہیں چھوڑیں؛ صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ فجر کی دو رکعتیں دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے بہتر ہیں۔ اسی لیے احناف کے نزدیک یہ سنتوں میں سب سے زیادہ تاکید والی ہیں۔

نماز باوضو ہو کر، قبلہ رخ کھڑے ہو کر اور نیت کر کے شروع کی جاتی ہے۔ نیت دل کا ارادہ ہے؛ ہمارے ہاں «نیت کی میں نے دو رکعت نماز سنت فجر کی، واسطے اللہ تعالیٰ کے، منہ طرف کعبہ شریف کے» کے الفاظ عام ہیں، زبان سے کہیں یا نہ کہیں نماز ہو جاتی ہے؛ اصل یہ ہے کہ دل میں معلوم ہو کون سی نماز پڑھ رہے ہیں۔ پھر مرد دونوں ہاتھ کانوں تک اور عورتیں کندھوں تک اٹھا کر «اللہ اکبر» کہیں (تکبیرِ تحریمہ)؛ مرد ہاتھ ناف کے نیچے اور عورتیں سینے پر باندھیں۔ قیام میں پہلے ثنا («سبحانک اللہم»)، پھر تعوذ و تسمیہ اور سورۃ الفاتحہ پڑھی جائے؛ فاتحہ کے بعد کوئی سورت یا کم از کم تین چھوٹی آیتیں ملائی جائیں۔

پھر «اللہ اکبر» کہہ کر رکوع میں جائیں: کمر سیدھی، ہاتھ گھٹنوں پر، کم از کم تین بار «سبحان ربی العظیم»۔ «سمع اللہ لمن حمدہ» کہتے ہوئے سیدھے کھڑے ہوں اور «ربنا لک الحمد» کہیں۔ پھر تکبیر کہتے ہوئے سجدے میں جائیں: پیشانی، ناک، دونوں ہتھیلیاں، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں کی انگلیاں زمین پر ہوں، اور تین بار «سبحان ربی الاعلیٰ» کہیں۔ تکبیر کہہ کر بیٹھیں، ذرا ٹھہریں (جلسہ)، اور دوسرا سجدہ اسی طرح کریں۔ یہ ایک رکعت مکمل ہوئی۔

دوسری رکعت کے لیے تکبیر کہہ کر کھڑے ہوں؛ اس بار ثنا نہیں پڑھی جاتی، بسم اللہ، فاتحہ اور ایک سورت پڑھ کر رکوع اور دونوں سجدے اسی طرح کیے جاتے ہیں۔ دوسرے سجدے کے بعد بیٹھ کر (قعدۂ اخیرہ) التحیات، درود شریف (درودِ ابراہیمی) اور کوئی مسنون دعا، مثلاً «ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ»، پڑھی جائے۔ پھر پہلے دائیں طرف منہ پھیر کر «السلام علیکم ورحمۃ اللہ» اور پھر بائیں طرف یہی کہہ کر نماز ختم کی جائے۔ سنتیں مکمل ہو گئیں۔

فرض بھی اسی ترتیب سے پڑھے جاتے ہیں؛ فرق نیت کا ہے اور یہ کہ قراءت بلند آواز سے ہوتی ہے۔ فجر، مغرب اور عشاء کے فرضوں میں امام قراءت جہراً کرتا ہے؛ اکیلا پڑھنے والا چاہے تو بلند آواز سے پڑھے اور چاہے تو آہستہ۔ جماعت کے ساتھ پڑھی جا رہی ہو تو حنفی فقہ میں مقتدی فاتحہ نہیں پڑھتا بلکہ خاموش رہ کر سنتا ہے؛ شافعی فقہ میں مقتدی بھی فاتحہ پڑھتا ہے۔ فجر کے فرضوں میں لمبی سورتیں پڑھنا سنت ہے، لیکن چھوٹی سورتوں سے پڑھی گئی نماز بھی بالکل درست ہے۔

اگر جماعت کھڑی ہو چکی ہو اور سنتیں ابھی نہ پڑھی ہوں تو حنفی فقہ میں حکم یہ ہے کہ اگر امام کے ساتھ کم از کم آخری قعدہ مل جانے کی امید ہو تو صف سے ہٹ کر سنتیں پڑھ لی جائیں، ورنہ جماعت میں شامل ہو جائیں اور سنتیں سورج نکلنے کے بعد پڑھیں؛ فرض کے بعد طلوعِ آفتاب سے پہلے سنتیں پڑھنا احناف کے نزدیک مکروہ ہے۔ جو شخص سوتا رہ جائے اور سورج نکلنے کے بعد آنکھ کھلے، وہ اسی دن زوال سے پہلے سنت سمیت قضا کرے؛ زوال کے بعد صرف فرض کی قضا ہو گی۔ حدیث میں ہے کہ سوتے رہ جانے والے اور بھول جانے والے پر گناہ نہیں، جب یاد آئے پڑھ لے۔ جان بوجھ کر چھوڑنا الگ معاملہ ہے اور اس پر توبہ کے ساتھ قضا لازم ہے۔

پہلی بار پڑھنے والے کے لیے سب سے مشکل حصہ سورتیں یاد کرنا ہے۔ سورۃ الفاتحہ ہر رکعت میں واجب ہے اور اسے ضرور یاد کرنا چاہیے؛ فاتحہ کے بعد ملانے کے لیے سورۃ الاخلاص، الفلق اور الناس جیسی تین چھوٹی سورتیں کافی ہیں۔ ثنا، التحیات اور درود جب تک یاد نہ ہوں، سیکھتے رہیں اور نماز نہ چھوڑیں؛ اللہ تعالیٰ نیت اور کوشش دیکھتا ہے۔

← نماز کا طریقہ کی رہنمائی پر واپس