توبہ و استغفار

سید الاستغفار — توبہ و مغفرت کی سب سے افضل دعا

اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَىٰ عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوءُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ
Allahumma anta Rabbi la ilaha illa ant, khalaqtani wa ana 'abduk, wa ana 'ala 'ahdika wa wa'dika mastata't, a'udhu bika min sharri ma sana't, abu'u laka bini'matika 'alayy, wa abu'u bidhanbi faghfir li fa'innahu la yaghfirudh-dhunuba illa ant
اے اللہ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں، اور جہاں تک مجھ سے ہو سکے تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں۔ میں نے جو کچھ کیا اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں اپنے اوپر تیری نعمتوں کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں، پس مجھے بخش دے، کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف نہیں کرتا۔
صحیح بخاری 6306 · صحیح

اس دعا کا ماخذ

اس دعا کا نام «سید الاستغفار» یعنی استغفار کا سردار خود حدیث سے آیا ہے: صحیح بخاری میں حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے یہ نام دیا اور فرمایا کہ جو شخص دن میں یقین کے ساتھ اسے پڑھے اور شام سے پہلے فوت ہو جائے، یا رات میں پڑھے اور صبح سے پہلے فوت ہو جائے، وہ جنتی ہے۔ ساخت کے اعتبار سے یہ ایک ہی جملے میں بہت کچھ سمیٹ لیتی ہے: اللہ کی ربوبیت کا اقرار، اپنے بندہ ہونے کا اعتراف، اپنی کمزوری کے ساتھ عہد پر قائم رہنے کا وعدہ («جہاں تک مجھ سے ہو سکے»)، اپنے ہی کیے کے شر سے پناہ، اور آخر میں معافی کا سوال، جو اللہ کی نعمت اور اپنی خطا کو ساتھ ساتھ رکھ کر کیا جاتا ہے۔ اسی لمبائی اور گہرائی کی وجہ سے اسے جلدی میں دہرانے کے بجائے ٹھہر ٹھہر کر اور معنی سمجھ کر پڑھنا بہتر ہے۔ یاد کرنے والوں کے لیے آسان طریقہ یہ ہے کہ اسے فجر اور مغرب کی نماز کے بعد کے معمول سے جوڑ دیا جائے۔

کب پڑھی جائے

صبح اور شام، روزانہ کے اذکار کے طور پر۔

متعلقہ دعائیں

← دعا لائبریری پر واپس