آیتِ کریمہ — مشکل اور مصیبت کی دعا
اس دعا کا ماخذ
یہ حضرت یونس علیہ السلام کی دعا ہے جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں کی تھی، یعنی قرآن میں بیان کردہ سب سے زیادہ بے بسی اور گھٹن کی حالت میں۔ اس کے بعد والی آیت (الانبیاء 88) بتاتی ہے کہ ان کی دعا قبول ہوئی اور انہیں غم سے نجات ملی، اور ساتھ فرمایا کہ «ہم مومنوں کو اسی طرح نجات دیتے ہیں»۔ جامع ترمذی کی ایک روایت میں ہے کہ جو مسلمان کسی بھی معاملے میں ان کلمات سے دعا کرے، اللہ اس کی دعا قبول فرماتا ہے۔ پاکستان اور ہندوستان میں اسے «آیتِ کریمہ» کہا جاتا ہے اور مشکل کے وقت گھروں میں اجتماعی طور پر سوا لاکھ مرتبہ پڑھنے کا رواج بھی ہے؛ یہ تعداد کسی حدیث سے ثابت نہیں، بزرگوں کا تجربہ ہے، اس لیے اسے لازم سمجھنا درست نہیں۔ الفاظ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں کوئی مطالبہ نہیں: نہ «مجھے بچا لے» نہ «مجھے عطا کر»، صرف اللہ کی توحید اور پاکی کا اقرار اور اپنی غلطی کا اعتراف ہے، اور نجات اسی اقرار کے نتیجے میں آتی ہے۔
کب پڑھی جائے
سخت پریشانی، تنگی یا ایسی مصیبت میں جس سے نکلنے کا راستہ نظر نہ آئے۔