سفر
سفر کی دعا — سواری پر بیٹھنے کی دعا
سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ
Subhanal-ladhi sakhkhara lana hadha wa ma kunna lahu muqrinin, wa inna ila rabbina lamunqalibun
پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے قابو میں کر دیا، ورنہ ہم اسے قابو میں لانے والے نہ تھے، اور بے شک ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔
صحیح مسلم 1342 · صحیح
اس دعا کا ماخذ
یہ الفاظ تقریباً لفظ بہ لفظ سورۃ الزخرف (آیات 13–14) سے لیے گئے ہیں، اور صحیح مسلم کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ سفر پر روانہ ہوتے وقت سواری پر بیٹھ کر تین بار اللہ اکبر کہتے، پھر یہ کلمات پڑھتے اور اس کے بعد ایک لمبی دعا کرتے جس میں سفر میں نیکی، تقویٰ اور آسانی، اور پیچھے رہ جانے والے گھر والوں کی حفاظت کا سوال ہوتا۔ آیت کا اصل سیاق سواری کی نعمت ہے: انسان نے خشکی اور سمندر میں سفر کی صلاحیت خود پیدا نہیں کی، یہ اسے دی گئی ہے۔ اسی لیے یہ سفر کی دعا کے طور پر اتنی موزوں ہے کہ ہر سفر کو، چاہے وہ روز کا دفتر جانا ہو، ایک ایسی نعمت کے طور پر دیکھنا سکھاتی ہے جو اپنے اختیار سے باہر ہے۔ روزمرہ میں عموماً اوپر والا حصہ ہی پڑھا جاتا ہے، سواری چاہے موٹر سائیکل ہو، رکشہ ہو یا ہوائی جہاز۔
کب پڑھی جائے
سفر کے آغاز میں، گاڑی، بس، ٹرین یا جہاز میں بیٹھ جانے کے بعد۔