وضو کا طریقہ

وضو وہ طہارت ہے جو نماز سے پہلے کی جاتی ہے اور جس میں جسم کے مخصوص اعضا دھوئے جاتے ہیں۔ اس کی ترتیب اور بنیادی شرائط تمام مسالک میں تقریباً ایک جیسی ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان میں رائج حنفی فقہ کے مطابق وضو کے چار فرض ہیں: پورا چہرہ دھونا، دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھونا، سر کے چوتھائی حصے کا مسح کرنا، اور دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھونا۔ یہ چاروں سورۃ المائدہ کی آیت 6 میں صراحت سے مذکور ہیں۔ باقی سب سنت ہے: یعنی اگر رہ جائے تو وضو پھر بھی ہو جاتا ہے، لیکن چونکہ یہ نبی کریم ﷺ کا طریقہ ہے اس لیے اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔

وضو نیت سے شروع ہوتا ہے۔ نیت زبان سے کوئی جملہ ادا کرنے کا نام نہیں بلکہ دل میں یہ ارادہ ہے کہ «میں نماز کے لیے وضو کر رہا ہوں»؛ حنفی فقہ میں نیت سنت ہے جبکہ شافعی فقہ میں فرض۔ پھر «بسم اللہ» پڑھ کر دونوں ہاتھ کلائیوں تک تین مرتبہ دھوئے جاتے ہیں۔ اس کے بعد تین بار کلی کی جاتی ہے اور تین بار ناک میں پانی ڈال کر اسے صاف کیا جاتا ہے۔ روزے کی حالت میں ان دونوں میں مبالغہ نہ کریں تاکہ پانی حلق میں نہ چلا جائے۔

اب فرض اعضا کی باری آتی ہے۔ چہرہ پیشانی کے بالوں کی جڑ سے ٹھوڑی کے نیچے تک اور ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک تین بار دھویا جاتا ہے؛ داڑھی گھنی ہو تو اس کے اوپر کا حصہ تر ہو جانا کافی ہے، اور داڑھی کا خلال کرنا سنت ہے۔ پھر پہلے دایاں اور پھر بایاں ہاتھ انگلیوں کے سروں سے کہنیوں سمیت تین بار دھویا جاتا ہے۔ کہنی خود دھونے کی حد میں شامل ہے؛ کہنی سے ذرا پہلے رک جانا ایک عام غلطی ہے۔ انگوٹھی ہو تو اسے ہلا کر یقین کر لیں کہ نیچے پانی پہنچ گیا ہے۔

سر کا مسح گیلے ہاتھ بالوں پر ایک بار پھیر کر کیا جاتا ہے۔ حنفی فقہ میں سر کا چوتھائی حصہ فرض ہے، لیکن سنت پورے سر کا مسح ہے: ہاتھ پیشانی سے گدی تک لے جا کر واپس لائے جائیں۔ اسی تری سے کانوں کا مسح بھی ہو جاتا ہے: شہادت کی انگلیوں سے کان کے اندر اور انگوٹھوں سے کان کی پشت پر۔ حنفی فقہ میں کان سر کا حصہ ہیں، اس لیے ان کے لیے نیا پانی لینا ضروری نہیں۔ گردن کا مسح ہاتھوں کی پشت سے کرنا ہمارے ہاں عام ہے اور احناف کے نزدیک مستحب ہے۔

آخر میں پہلے دایاں اور پھر بایاں پاؤں ٹخنوں سمیت تین بار دھویا جاتا ہے، اور بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے پاؤں کی انگلیوں کا خلال کیا جاتا ہے۔ پاؤں دھونے کی جگہ مسح صرف ان چمڑے کے موزوں پر جائز ہے جو وضو کی حالت میں پہنے گئے ہوں اور ٹخنوں کو ڈھانپتے ہوں؛ عام سوتی یا نائلون کی جرابوں پر مسح حنفی فقہ میں جائز نہیں، اور یہ ہمارے ہاں وضو کے بارے میں سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال ہے۔

اعضا کو پے در پے دھونا، یعنی بیچ میں اتنا وقفہ نہ کرنا کہ پچھلا عضو سوکھ جائے، اور ترتیب کا خیال رکھنا حنفی فقہ میں سنت ہے، جبکہ شافعی اور حنبلی فقہ میں فرض؛ اس لیے ترتیب اور تسلسل کے ساتھ وضو کرنا ہر مسلک کے مطابق محفوظ طریقہ ہے۔ وضو کے بعد آسمان کی طرف یا قبلہ رخ ہو کر کلمۂ شہادت پڑھنا اور «اللہم اجعلنی من التوابین واجعلنی من المتطہرین» یعنی «اے اللہ! مجھے بہت توبہ کرنے والوں اور خوب پاک رہنے والوں میں شامل فرما» کی دعا پڑھنا سنت ہے؛ جامع ترمذی کی روایت میں اس پر جنت کے آٹھوں دروازے کھلنے کی بشارت ہے۔

پانی ضائع نہ کرنا بھی سنت کا حصہ ہے۔ روایات میں ہے کہ نبی کریم ﷺ تقریباً ایک مُد پانی سے وضو فرما لیتے تھے؛ نل مسلسل کھلا چھوڑنے کے بجائے ہر عضو کے لیے ضرورت کے مطابق پانی لینا سنت کے بھی قریب ہے اور عملی بھی۔ وضو اس وقت تک باقی رہتا ہے جب تک اسے توڑنے والی کوئی چیز پیش نہ آئے؛ وہ چیزیں کون سی ہیں، یہ الگ مضمون میں بیان کیا گیا ہے۔

← وضو کی رہنمائی پر واپس