وضو توڑنے والی چیزیں

وضو ایک بار کر لیا جائے تو اس وقت تک باقی رہتا ہے جب تک کوئی خاص چیز پیش نہ آئے، اور ان چیزوں کو ٹھیک ٹھیک جاننا جتنا نظر آتا ہے اس سے زیادہ اہم ہے، کیونکہ بے وضو پڑھی گئی نماز ادا نہیں ہوتی اور اسے لوٹانا پڑتا ہے۔ ساتھ ہی یہ فہرست جاننا بے جا وسوسوں سے بھی بچاتا ہے: جو چیزیں وضو نہیں توڑتیں انہیں ناقض سمجھ لینا ہر نماز سے پہلے دوبارہ وضو کرنے اور رفتہ رفتہ نماز سے دل اچاٹ ہونے کا ایک عام سبب ہے۔ ذیل کے احکام پاکستان اور ہندوستان میں رائج حنفی فقہ کے مطابق ہیں؛ جہاں دوسرے مسالک کی رائے مختلف ہے وہاں اس کا ذکر کر دیا گیا ہے۔

پہلی اور سب سے واضح چیز، جس پر تمام مسالک متفق ہیں، وہ ہے جو پیشاب یا پاخانے کے راستے سے نکلے: پیشاب، پاخانہ، ہوا اور ہر قسم کا اخراج۔ دن بھر میں وضو زیادہ تر اسی وجہ سے دوبارہ کرنا پڑتا ہے۔ ہوا کے بارے میں معیار یقین ہے: صحیح مسلم کی حدیث میں نبی کریم ﷺ نے اس شخص سے، جسے نماز میں کچھ محسوس ہونے کا گمان ہو، فرمایا کہ جب تک آواز نہ سنے یا بو محسوس نہ کرے نماز سے نہ نکلے۔ یعنی محض شک سے وضو نہیں ٹوٹتا؛ یقین شک سے زائل نہیں ہوتا۔

دوسری قسم حنفی فقہ سے خاص ہے: جسم کے کسی بھی حصے سے خون، پیپ یا زرد پانی کا نکل کر بہہ جانا۔ معیار بہنا ہے: سوئی کی جگہ پر ٹھہرا ہوا خون، جو پونچھنے پر اپنی جگہ سے آگے نہ پھیلے، وضو نہیں توڑتا؛ زخم سے نکل کر آس پاس بہہ جانے والا خون توڑ دیتا ہے۔ اسی اصول سے دانت صاف کرتے وقت نکلنے والا تھوڑا خون، جب تک تھوک پر غالب نہ ہو، وضو نہیں توڑتا؛ تھوک سرخ ہو جائے تو ٹوٹ جاتا ہے۔ شافعی فقہ میں ان دو راستوں کے علاوہ کہیں سے خون نکلنے سے وضو بالکل نہیں ٹوٹتا۔ منہ بھر کر قے آنا بھی حنفی فقہ میں وضو توڑ دیتا ہے؛ تھوڑی قے سے نہیں ٹوٹتا۔

تیسری قسم ہوش و حواس کا جاتے رہنا ہے: بے ہوشی، نشہ اور نیند۔ نیند میں معیار یہ ہے کہ جسم کسی چیز کا سہارا لے کر ڈھیلا پڑ جائے؛ جو شخص بیٹھے بیٹھے اونگھ جائے اور اس کا سر جھک جائے، اس کا وضو نہیں ٹوٹتا، جبکہ ٹیک لگا کر یا لیٹ کر سونے والے کا ٹوٹ جاتا ہے۔ نماز میں قیام، رکوع یا سجدے کی حالت میں سو جانا حنفی فقہ کے مطابق وضو نہیں توڑتا، کیونکہ ان حالتوں میں جسم ڈھیلا نہیں پڑتا۔ بالغ شخص کا رکوع سجدے والی نماز میں اتنی زور سے ہنسنا کہ پاس والا سن لے (قہقہہ) بھی صرف حنفی فقہ میں وضو توڑتا ہے اور نماز بھی؛ نماز سے باہر قہقہہ وضو نہیں توڑتا۔

میاں بیوی کا ملاپ اور منی کا نکلنا وضو نہیں بلکہ غسل واجب کرتا ہے؛ یعنی اس صورت میں صرف وضو کافی نہیں، پورا غسل کرنا ضروری ہے۔ مذی، یعنی وہ پتلا پانی جو شہوت کے وقت نکلتا ہے، صرف وضو توڑتی ہے اور متعلقہ جگہ دھو لینے سے پاکی حاصل ہو جاتی ہے۔

جو چیزیں وضو نہیں توڑتیں، ان کی فہرست بھی اتنی ہی اہم ہے۔ حنفی فقہ میں بیوی یا کسی اور کو چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا؛ شافعی فقہ میں غیر محرم کو چھونے سے ٹوٹ جاتا ہے، اور یہ دونوں مسالک کا سب سے معروف اختلاف ہے۔ رونا، ناخن یا بال کاٹنا، کھانا پینا، سگریٹ پینا، اپنے ستر کو دیکھنا اور بغیر خون کے ناک صاف کرنا وضو نہیں توڑتے۔ اونٹ کا گوشت کھانا صرف حنبلی فقہ میں ناقض ہے۔

عملی زندگی میں سب سے زیادہ پوچھے جانے والے مسائل یہ ہیں: مسوڑھوں سے ہلکا خون جو تھوک پر غالب نہ ہو، نہ بہنے والا دانے کا خون اور مچھر کا کاٹنا وضو نہیں توڑتے؛ اونگھ نیند شمار نہیں ہوتی؛ اور شک سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ جس شخص کو یقین نہ ہو کہ وضو ٹوٹا یا نہیں، وہ آخری یقینی حالت پر عمل کرے: اسے وضو کرنا یاد ہے اور ٹوٹنے میں شک ہے تو وہ باوضو ہے۔

← وضو کی رہنمائی پر واپس